علی حسین عابدی ۔۔۔ جب ہم بنے تھے یار دو

جب ہم بنے تھے یار دو
کیسا تھا دو ہزار دو

ہوں میں شکستہ پا  بہت
بگڑی ہوئی سنوار دو

مجھ پر نہ کرو حکمرانی
خود پہ بھی اختیار دو

قسمت پہ دسترس ہے کب
جیسی بھی ہے گزار دو

لہجے کے اعتماد سے
لفظوں کو اعتبار دو

نقشِ کہن بنوں گا میں
صدیوں کا انتظار دو

فرصت ملے تو آ ملو
بیٹھیں گے خاکسار دو

آنکھیں ہیں اُس کی یا کوئی
خنجر ہیں آب دار دو

اِک پل ذرا سکوں نہیں
آؤ مجھے قرار دو

ہاتھوں میں ہاتھ تھام لو
پھر سے مجھے نکھار دو

کب سے خزاں بدست ہوں
دائم رواں بہار دو

Related posts

Leave a Comment